ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میسورو:سرکاری ہال میں سیمینارکے دوران بیف کھانے پر تنازعہ 

میسورو:سرکاری ہال میں سیمینارکے دوران بیف کھانے پر تنازعہ 

Wed, 28 Jun 2017 10:58:44    S.O. News Service

سورتکل27؍جون (ایس او نیوز)چارواک سوشیل اینڈ کلچرل ٹرسٹ کے زیر اہتمام کلامندر میسورو کے مانیانگلا ہال میں 145Food Habits and Freedom of Expression146 کے عنوان سے جو سیمینار منعقد کیا گیا تھااس کے دوران اسٹیج پر بیف کھانے اور کھلانے کی وجہ سے ہندتووادی تنظیموں کی طرف سے اعتراضات اور مذمت کے ساتھ ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔

سیمینار میں قصائی خانوں کے لئے بڑے جانور وں کی فروخت پر لگی ہوئی مرکزی سرکا رکی پابندی کے خلاف بطور احتجاج بیف کھانے کے معاملے کو لے کر ضلع انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی ہے اور ڈپٹی کمشنر ڈی رندیپ نے چارواک سوشیل اینڈ کلچرل ٹرسٹ کو بلیک لسٹ کرنے ، ان کی جمع شدہ ڈپازٹ کی رقم کو ضبط کرنے کے علاوہ کنڑا اینڈ کلچر ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایچ چنّپا کو نوٹس جاری کردی گئیہے۔اور کہا ہے کہ آئندہ اس طرح کا واقعہ نہ ہو اس کے لئے مناسب اقدامات کیے جائیں ۔

کنڑا اینڈ کلچر محکمے کے چنّپا کا کہنا ہے کہ سیمینار کے منتظمین نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہم نے انہیں تین دن کے سیمینار کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے بیف کھانے یا کھلانے کے پروگرام کے بارے میں کوئی بات نہیں بتائی تھی۔

واضح رہے کہ اس سیمینار میں اسٹیج پر موجود مشہور ادیب کے ایس بھگوان،پروفیسر مہیش چندرا گرو،پچھڑی ذاتوں اور طبقات کی بیداری تنظیم کے صدر کے ایس شیورام اور دیگر لوگوں نے کھلے عام بیف کھایا تھا جبکہ اس موقع پر کارپوریٹر پرشوتم، پرجا ٹرسٹ کے صدر سوسالے سداراجو اوراورلنگا پیڈی مٹھ کے سنت گیانن پرکاش سوامی وغیرہ موجود تھے۔

بیف کھانے کا دفاع کرتے ہوئے مسٹر بھگوان نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ودھان سودھا میں بیف کھایا تھا ، اس وقت کسی نے کچھ نہیں کہا۔ دستور ہند کے اعتبار سے بیف کھانا کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے۔ہم نے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ہم کسی بھی طرح کی قانونی لڑائی کے لئے تیار ہیں۔گوشت تو گوشت ہی ہوتا ہے چاہے گائے کا ہو، چکن ہویا بکرے کا ہو سب ایک ہی ہے۔ ہم نے توہم پرستی ختم کرنے کے لئے اس سیمینار کا انعقاد کیا تھا۔ 

دوسری طرف بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیموں کے اراکین نے کلا مندر کے احاطے کو گائے کے پیشاب سے صاف کرتے ہوئے اسے پاک کرنے کی کارروائی انجام دی۔انہوں نے چنّپاکو ان کے عہدے سے ہٹانے اور مسٹر بھگوان کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اور کہا کہ کلا مندر کا اپنا تقدس ہے جسے نام نہاد دانشوروں نے پامال کیا ہے۔ انہوں نے یہ شک بھی ظاہر کیا کہ اس واقعے کے پیچھے ریاستی کانگریسی سرکار کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔

میسورو کورگ  علاقے کے رکن پارلیمان پرتاپ سمہا نے کہا کہ ان لوگوں (بھگوان اور مہیش گرو) کو اپنے گھر میں چاہے توکتے کا گوشت کھانے دو، مگر انہوں نے ایک سرکاری ادارے میں بیف کھا کراس کا غلط استعمال کیا ہے اور اسے بدنام کیا ہے۔ریاستی حکومت کو ان کے خلاف کریمنل کیس درج کرنا چاہیے۔گورنر واجو بھائی والا کو چاہیے کہ وہ یونیورسٹی آف میسور کے پروفیسر مہیش چندرا گرو کو ان کے عہدے سے برخاست کردیں۔


Share: